15 جون 2009 - 19:30

سیکورٹی فورسز اور پولیس کے علاوہ شہریوں پر براہ راست 45 خودکش حملے اور بم دھماکے کئے گئے

خودکش حملوں اور دھماکوں میں 688 شہری جاں بحق جبکہ 1446 زخمی ہوئے ہیںاکتوبر کا مہینہ سال میں سب سے زیادہ پرتشدد رہا ‘ 18 بڑ ے واقعات رونما ہوئےاسلام آباد میں کل 14 خودکش حملوں میں 166 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ملک بھر میں گزشتہ چند سالوں سے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی جانب سے خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں زیادہ تر نشانہ سکیورٹی فورسز کو بنایا جاتا تھا لیکن رواں سال عام شہریوں پر بھی براہ راست حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کی شدت میں غیر معمولی تیزی آتی جا رہی ہے ۔ رواں سال کے دوران اب تک ہونے والے خود کش حملوں اور بم دھمکوں کے بارے غیر سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی اعداد و شمار کے مطابق: 2 نومبر کو راولپنڈی میں مال روڈ کے قریب واقع شالیمار پلازہ کی کار پارکنگ میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے جبکہ گزشتہ مہینہ(اکتوبر ) سال کا سب سے پرْ تشدد مہینہ رہا۔ اس ماہ اٹھارہ مختلف حملوں میں دو سو سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ۔اٹھائیس اکتوبر کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر میں واقع پیپل منڈی کے مینا بازار چوک میں ایک کار بم دھماکے میں ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک اور دو سو سے زخمی گئے ۔ پاکستان میں رواں سال کا یہ سب بڑ ا بم دھماکہ تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق تئیس اکتوبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اسی روز صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے مہنگے علاقے حیات آباد میں واقع ایک ریستوان کے باہر کار بم دھماکے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے ۔ بیس اکتوبر کو اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے کیمپس میں دو خودکش حملوں میں حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے ۔ ان حملوں کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ۔

 

پندرہ اکتوبر کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک سرکاری رہائشی کالونی میں ہونے والے ریموٹ کنٹرول کار بم دھماکے میں ایک بچہ ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے ۔نو اکتوبر کو پشاور کے خیبر بازار میں ایک خودکش کار بم حملہ ہوا جس میں اڑ تالیس افراد ہلاک اور ایک سو سنتالیس افراد زخمی ہو ئے ۔ اکتوبر میں پہلا خودکش حملہ پانچ تاریخ کو دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کی عمارت میں ہوا۔ اس حملے میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔ اسلام آباد کی تاریخ میں یہ چودھواں خودکش حملہ تھا۔ ان چودہ حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے ۔ چھبیس ستمبر کو پشاور کے صدر بازار کے علاقے میں ایک نجی بینک کی عمارت کے سامنے دھماکہ ہوا جس سے دس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ۔ اٹھارہ ستمبر کو صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ کے کچہ پخہ چوک میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوگئے ۔تئیس اگست کو پشاور کے رہائشی علاقے مومن ٹاؤن میں ایک خودکش دھماکے میں حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ۔ صوبہ سرحد میں ہی سترہ اگست کو ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر میں ایک گاڑ ی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ۔چودہ جون کو صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے تجارتی علاقے گنج میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوگئے ۔بارہ جون کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لا ہور کے علاقے گڑ ھی شا ہو میں واقع جامعہ نعیمیہ میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش حملہ ہوا جس میں جامعہ کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی سمیت پانچ افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوگئے۔گیارہ جون کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے احاطے میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ۔ خودکش حملے میں اقوام متحدہ کے دو غیر ملکی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ۔پانچ جون کو صوبہ سرحد میں دیربالا کے علاقے حیا گئی شرقی میں ایک مسجد کے اندر بم دھماکہ ہواجس کے نتیجے میں کم سے کم پینتیس لوگ ہلاک ہوگئے ۔یکم جون کو صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں ایک بم دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ۔اٹھائیس مئی کو پشاور شہر کے گنجان آباد اور تنگ علاقہ کباڑ ی بازار میں موٹر سائیکلوں میں نصب یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے ۔ بائیس مئی کو پشاور کے ہی مصروف ترین خیبر بازار کے عقب میں ایک کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک اور اسی زخمی ہوگئے ۔سولہ مئی کو صوبہ سرحد کے صدر مقام پشاور میں گاڑ یوں کے ایک شو روم کے سامنے کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دس افراد ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوئے ۔چھبیس اپریل پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک گاڑ ی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون سیمت تین بچے شامل تھے ۔پانچ اپریل کو صوبہ پنجاب کے شہر چکوال کی ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے میں چوبیس افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوئے ۔ستائیس مارچ کو پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک مسجد میں خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور ایک سو پچہتر کے قریب زخمی ہوئے ۔گیارہ مارچ کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما وزیر بشیر احمد بلور پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور بعد میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ۔پانچ مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے ایک مسجد پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں ایک شخص ہلاک اور بیس کے قریب افراد زخمی ہوگئے ۔تین مارچ کو لا ہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر تقریباً ایک درجن حملہ آوروں کی فائرنگ سے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑ ی زخمی اور پنجاب پولیس کے پانچ اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ۔اس کے علاوہ دو نامعلوم افراد بھی مارے گئے ۔اکیس فروری کو صوبہ سرحد کے ضلع لکی مروت میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ۔ اس سے ایک روز پہلے بیس فروری کو صوبہ سرحد کے ہی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جنازے پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم پچیس افراد ہلاک اور ڈیڑ ھ سو سے زائد زخمی ہو گئے ۔پانچ فروری کو جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں امام بارگاہ میں ایک خودکش حملے میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ پنتالیس کے قریب زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے ۔ تین فروری کو ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے ۔نو جنوری کو لا ہور میں دو مختلف تھیئٹروں کے قریب دوگھنٹوں میں پانچ کم شدت کے دھماکے ہوئے ہیں جس میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا.ــــان دھماکوں میں لاہور کے ایف آئی ای کے آفس پر دو خودکش حملوں، پولیس کے خفیہ اداروں پر حملوں اور حالیہ کئی حملوں سمیت جی ایچ کیو پر حملوں کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی میری ایٹ ہوٹل پر حملے کا ذکر ہے! ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال میں دھماکے اور پشاور کی دو امامبارگاہوں میں دو دھماکوں کا ذکر بھی نہیں ہے!